Sunday, 12 December 2021

دل سے کر بیٹھے ہیں سوال محبت ہے کہ نہیں ہے

 محبت ہے کہ نہیں ہے


ہماری سادگی یا غلطی کہیے صاحب

ہم تلوار کی دھار پر سر رکھنے کے بعد

ہم کانٹوں کی نوک سے کھیل کھیل کر

ہم رسوائیوں کے شہر کے مکین جب بنے

ہم درد کے ہر دریا میں ڈوب کر آئے تب

سچ ڈھونڈتے ہیں ہم

خود سے پوچھتے ہیں ہم

وہ محبت جسے جرم زمانے نے کہا

اس جرم پر ندامت ہے کہ نہیں ہے؟

اپنا آپ مٹا کر

ہر کشتی جلا کر

دل سے کر بیٹھے ہیں سوال

محبت ہے کہ نہیں ہے


حمیرا فضا

No comments:

Post a Comment