محبت ہے کہ نہیں ہے
ہماری سادگی یا غلطی کہیے صاحب
ہم تلوار کی دھار پر سر رکھنے کے بعد
ہم کانٹوں کی نوک سے کھیل کھیل کر
ہم رسوائیوں کے شہر کے مکین جب بنے
ہم درد کے ہر دریا میں ڈوب کر آئے تب
سچ ڈھونڈتے ہیں ہم
خود سے پوچھتے ہیں ہم
وہ محبت جسے جرم زمانے نے کہا
اس جرم پر ندامت ہے کہ نہیں ہے؟
اپنا آپ مٹا کر
ہر کشتی جلا کر
دل سے کر بیٹھے ہیں سوال
محبت ہے کہ نہیں ہے
حمیرا فضا
No comments:
Post a Comment