Sunday, 12 December 2021

میں مٹ گیا تو گرد سفر میں پڑا رہا

 اک نقشِ پا تھا، راہ گزر میں پڑا رہا

میں مٹ گیا، تو گردِ سفر میں پڑا رہا

وہ بھی، پڑا ہے خاک میں میرے قریب اب

تا زندگی، جو لعل و گہر میں پڑا رہا

اپنا ہی کوئی عیب تھا، جو ساری زندگی

زنجیر بن کے دستِ ہنر میں پڑا رہا

آنکھوں کو کوئی چیز مکمل نہیں لگی

پلکوں کا کوئی بال نظر میں پڑا رہا

آنسو تمام یادیں بہا لے گئے، مگر

اِک عکس تھاکہ دیدۂ تر میں پڑا رہا

نکلا نہیں میں خاطرِ احباب سے کہیں

دشمن بھی میرے خوف سے گھر میں پڑا رہا

عرصہ ہوا شراب کو چھوڑے ہوئے، مگر

قطرہ ساایک خونِ جگر میں پڑا رہا


بھارت بھوشن پنت

No comments:

Post a Comment