Sunday, 12 December 2021

آدمی دھوپ میں ہو زیر شجر جائے گا

 آدمی دھوپ میں ہو، زیرِ شجر🌴 جائے گا

دھوپ میں، ہے جو شجر خود وہ کدھر جائے گا

غم کی دہلیز پہ لمحے کو رُکا رہنے دو

وہ تو مہمان ہے، از خود ہی گزر جائے گا

راہِ دریا سے چٹانیں بھی پرے ہٹتی ہیں

راستہ پاؤں تلے، آپ سنور جائے گا

اے گُلِ شوخ! نہ پتوں کو سمجھ اتنا حقیر

یہ تِرا رنگ بھی، اک روز اتر جائے گا

ابر پاروں کا ہے لشکر، یہ ہجومِ یاراں

ایک ہلّے میں ہوا کے، یہ بِکھر جائے گا


انتخاب عالم

چانگ شی شوان

No comments:

Post a Comment