فرقت کی شب فضا پہ اداسی محیط ہے
گلزار پر ہوا پہ اداسی محیط ہے
مغموم ماہ و گل ہیں پریشاں ہے چاندنی
فطرت کی ہر ادا پہ اداسی محیط ہے
تارے چمک رہے ہیں پر اپنے خیال میں
تاروں کی کل ضیا پہ اداسی محیط ہے
آ جاؤ اب خدا کے لئے بہر اتصال
معمورۂ وفا پہ اداسی محیط ہے
اظہر کو آج دیکھ تو لو دوستو ذرا
دل سے سوا قبا پہ اداسی محیط ہے
ضمیر اظہر
No comments:
Post a Comment