عکس ابھرا نہیں آئینہ دلداری کا
ہجر نے کھینچ لیا دائرہ زنگاری کا
ناز کرتا تھا طوالت پہ کہ وقت رخصت
بھید سائے پہ کھلا شام کی عیاری کا
جس قدر خرچ کئے سانس ہوئی ارزانی
نرخ گرتا گیا رسم و رہِ بازاری کا
رات نے خواب سے وابستہ رفاقت کے عوض
راستہ بند رکھا دن کی نموداری کا
ایسا ویران ہوا ہے کہ خزاں روتی ہے
کل بہت شور تھا جس باغ میں گلکاری کا
بے سبب جمع تو کرتا نہیں تیر و ترکش
کچھ ہدف ہو گا زمانے کی ستمگاری کا
پا بہ زنجیر کیا تھا مجھے آسانی نے
مرحلہ ہو نہ سکا طے کبھی دشواری کا
مطمئن دل ہے عجب بھیڑ سے غمخواروں کی
سلسلہ طول پکڑ لے نہ یہ بیماری کا
رحمان حفیظ
No comments:
Post a Comment