Thursday, 22 April 2021

عکس ابھرا نہیں آئینہ دلداری کا

 عکس ابھرا نہیں آئینہ دلداری کا

ہجر نے کھینچ لیا دائرہ زنگاری کا

ناز کرتا تھا طوالت پہ کہ وقت رخصت

بھید سائے پہ کھلا شام کی عیاری کا

جس قدر خرچ کئے سانس ہوئی ارزانی

نرخ گرتا گیا رسم و رہِ بازاری کا

رات نے خواب سے وابستہ رفاقت کے عوض

راستہ بند رکھا دن کی نموداری کا

ایسا ویران ہوا ہے کہ خزاں روتی ہے

کل بہت شور تھا جس باغ میں گلکاری کا

بے سبب جمع تو کرتا نہیں تیر و ترکش

کچھ ہدف ہو گا زمانے کی ستمگاری کا

پا بہ زنجیر کیا تھا مجھے آسانی نے

مرحلہ ہو نہ سکا طے کبھی دشواری کا

مطمئن دل ہے عجب بھیڑ سے غمخواروں کی

سلسلہ طول پکڑ لے نہ یہ بیماری کا


رحمان حفیظ

No comments:

Post a Comment