وحشتوں میں ایک وحشت نام کی
اور پھر اس کاوشِ ناکام کی
وہم کی صورت گری کرتی ہے یہ
ٹمٹماتی لو چراغِ بام کی
وجد میں رقصاں دِیے کی روشنی
روشنی میں گونج اک پیغام کی
گونج میں سر اک سنکتی یاد کے
یاد جیسے راگنی ایام کی
وقت کی رو میں کہیں ٹھہری ہوئی
یاد کشتی ایک گزری شام کی
طارق بٹ
No comments:
Post a Comment