Tuesday, 16 November 2021

دل کی یہ غم طلبی آج سے پہلے تو نہ تھی

 دل کی یہ غم طلبی آج سے پہلے تو نہ تھی

خشک آنکھوں کی گلی آج سے پہلے تو نہ تھی

شاخِ امید مہکتی سی نظر آتی ہے

چارہ سازی یہ تِری آج سے پہلے تو نہ تھی

دشتِ آوارگی یہ تیرا کرم ہے، ورنہ

اپنی یہ دربدری آج سے پہلے تو نہ تھی

کیوں نگاہیں کسی مرکز پہ ٹہرتی ہی نہیں

یہ پریشاں نظری آج سے پہلے تو نہ تھی

آج سے پہلے تو دل اتنا سبک سار نہ تھا

درد میں ہے جو کمی آج سے پہلے تو نہ تھی


ساجد حمید

No comments:

Post a Comment