دل کی یہ غم طلبی آج سے پہلے تو نہ تھی
خشک آنکھوں کی گلی آج سے پہلے تو نہ تھی
شاخِ امید مہکتی سی نظر آتی ہے
چارہ سازی یہ تِری آج سے پہلے تو نہ تھی
دشتِ آوارگی یہ تیرا کرم ہے، ورنہ
اپنی یہ دربدری آج سے پہلے تو نہ تھی
کیوں نگاہیں کسی مرکز پہ ٹہرتی ہی نہیں
یہ پریشاں نظری آج سے پہلے تو نہ تھی
آج سے پہلے تو دل اتنا سبک سار نہ تھا
درد میں ہے جو کمی آج سے پہلے تو نہ تھی
ساجد حمید
No comments:
Post a Comment