خراجِ حسن دینے سے کوئی رُسوا نہیں ہوتا
خسارہ دل کا ہوتا ہے مگر اتنا نہیں ہوتا
تباہی، درد و بربادی، عذاب و شوق و بیداری
جہاں پر تم نہیں ہوتے وہاں کیا کیا نہیں ہوتا
جو آنکھیں بام پر رکھی ہیں وہ آنکھیں ہماری ہیں
جو اکثر رُوٹھ جاتا ہے وہ دل اپنا نہیں ہوتا
یہاں سورج نکل آئے تو کچھ اچھا نہیں ہوتا
یہاں کچھ پیڑ ہیں جن کا کبھی سایہ نہیں ہوتا
اگر افلاک کو روندوں، اگر آفاق سے نکلوں
قیامت تو نہیں آتی، حشر برپا نہیں ہوتا
سنو وہ شاد تھا، تم نے جسے برباد کرڈالا
روا ہر ظلم ہوتا ہے مگر ایسا نہیں ہوتا
شاد مردانوی
No comments:
Post a Comment