Friday, 2 April 2021

تمہارے غم کا سہارا بھی کام آتا ہے

 تمہارے غم کا سہارا بھی کام آتا ہے

کبھی کبھی یہ کنارہ بھی کام آتا ہے

جسے حقیر سمجھتے ہیں عیش کوشی میں

پھر ایک دن وہ گزارہ بھی کام آتا ہے

تُو کچھ نہ بول نہ لب کھول صرف آنکھ اٹھا

گداگروں کو اشارہ بھی کام آتا ہے

ہمیں غرض ہی نہیں پیار کے محاصل سے

ہم ایسوں کو تو خسارہ بھی کام آتا ہے

تمہارا ساتھ نہیں ہے تو کوئی رنج نہیں

مسافروں کو ستارہ بھی کام آتا ہے

مِرا نصیب کہ میٹھا کنواں ملا مجھ کو

کڑے دنوں میں تو کھارا بھی کام آتا ہے

وہ جھیل جس پہ گزاری تھی ایک شام کبھی

ہمیں اب اس کا نظارہ بھی کام آتا ہے


فیض محمد شیخ

No comments:

Post a Comment