تمہیں تو اب بھی لگے ہے کہ کچھ ہُوا ہی نہیں
تو جھانک دیکھ ذرا مجھ میں کچھ رہا ہی نہیں
میں گنگناؤں تو کس دُھن پہ گنگناؤں اسے
وہ سازِ زیست، وہ لَے اور وہ فضا ہی نہیں
میں مر چکا ہوں بہت پہلے راکھ ہو بھی چکا
تمہارے شہر کی آتی یہاں ہوا ہی نہیں
سنو اے جِن و ملک خاک پھر نہ کہیو مجھے
ازل بھی نام ہے میرے فقط بقاء ہی نہیں
جو پوچھتا ہے کہ یہ راکھ کیسی ہوتی ہے
وہ شخص جیسے کبھی شاد سے ملا ہی نہیں
شاد مردانوی
No comments:
Post a Comment