خاک زادہ ہو تو افلاک بہ سر ہو جائے
"جس پہ سرکار کی سیرت کا اثر ہو جائے"
نور تسنیم میں مل جائے تِری یاد کے وقت
گوشۂ چشم اگر ساتھ میں تر ہو جائے
ڈوبتے شمس پہ گر اسمِ محمدﷺ پھونکوں
عین ممکن ہے کہ دو بارہ سحر ہو جائے
شدتِ شوقِ سفر جانبِ شہرِ طیبہ
مجھ سے کہتی ہے پھر اک بار سفر ہو جائے
موت نے مجھ سے مضافاتِ مدینہ میں کہا
راہ یہ راہ بنے یہ ہی ڈگر ہو جائے
عشق یہ ہے کہ میں پلکوں سے وہ در صاف کروں
اور یہ عشق اگر میرا ہنر ہو جائے
یہ جو پتھر ہیں انہیں نطق و بیاں مل جائے
ان پہ سرکار کی گر ایک نظر ہو جائے
دیکھا کوثر پہ تو یہ مل کے فرشتوں نے کہا
کاش یہ جنسِ ملائک بھی بشر ہو جائے
وہ کہے ایسی تجلی تو نہ دیکھی نہ سنی
ذرہ طور کو گر دل کی خبر ہو جائے
شاد مردانوی
No comments:
Post a Comment