Tuesday, 6 April 2021

در نبی پہ کوئی سوالی قلم کو تھامے ہوئے کھڑا ہوا ہے

 سوالی


درِ نبیﷺ پہ کوئی سوالی

قلم کو تھامے ہوئے کھڑا ہوا ہے

یہ سوچتا ہے کہ ایسے الفاظ کون سے ہوں

جو تاجدارِ حرم کے شایان ہونے پائیں

قلم جو مدحِ نبیﷺ کی جرأت کرے تو کیسے

یہ نعت لکھے تو تب ہی لکھے

کہ لفظ بھی اس کے با وضو ہوں

قلم میں جتنے بھی لفظ رہتے ہیں

اپنی نظریں جھکا کے ساکن کھڑے ہیں

جیسےدر نبیﷺ پر نظر اٹھانے کا

بوجھ سہنے نہ پا رہے ہوں

در شہنشاہ کا سوالی

جو خالی ہاتھوں کا ایک کاسہ لیے کھڑا ہے

صدا لگاتا ہے اپنی آنکھوں سے

اس طرح جیسے اس کے سب لفظ کھو گئے ہیں

اسےعنایت ہو بھیک تو یہ کلام لکھے

یہ اپنے آقا کی نعت لکھے، سلام لکھے


عائشہ غازی

No comments:

Post a Comment