Tuesday, 6 April 2021

آؤ دانشورو خدا کے لیے گر یہ بگڑی بنا سکو تو چلو

 آؤ دانشورو خدا کے لیے

گر یہ بگڑی بنا سکو تو چلو


کیسی مشکل میں پڑی ہے امت

چُور زخموں سے پڑی ہے امت

اک مسیحا کی ضرورت ہے اسے

دمِ عیسیٰ کی ضرورت ہے اسے


حسنِ کردار کے پیکر بن کر

اپنی باتوں میں چاشنی لاؤ 

کُفر و الحاد کے اندھیروں میں

لا سکو گر تو روشنی لاؤ


اس سے پہلے کہ یہ اجڑ جائے

گر یہ بستی بسا سکو تو چلو

آبیاری کو خونِ دل مانگے

یہ چمن گر بچا سکو تو چلو


آؤ دانشورو خدا کے لیے

گر یہ بگڑی بنا سکو تو چلو


بشارت وارثی

No comments:

Post a Comment