آؤ دانشورو خدا کے لیے
گر یہ بگڑی بنا سکو تو چلو
کیسی مشکل میں پڑی ہے امت
چُور زخموں سے پڑی ہے امت
اک مسیحا کی ضرورت ہے اسے
دمِ عیسیٰ کی ضرورت ہے اسے
حسنِ کردار کے پیکر بن کر
اپنی باتوں میں چاشنی لاؤ
کُفر و الحاد کے اندھیروں میں
لا سکو گر تو روشنی لاؤ
اس سے پہلے کہ یہ اجڑ جائے
گر یہ بستی بسا سکو تو چلو
آبیاری کو خونِ دل مانگے
یہ چمن گر بچا سکو تو چلو
آؤ دانشورو خدا کے لیے
گر یہ بگڑی بنا سکو تو چلو
بشارت وارثی
No comments:
Post a Comment