پانی کو آگ، آگ کو پانی شمار کر
تُو جیسے چاہے ویسے معانی شمار کر
فلموں میں مرنے والوں پہ آنسو بہائے جا
جو سچ میں مر گیا وہ کہانی شمار کر
آنکھیں بتا ہی دیتی ہیں اندر کی داستاں
تُو لاکھ نوکرانی کو رانی شمار کر
ویسے تو کچھ حساب نہیں کر سکو گے اب
پھر بھی مِرے غموں کو تُو جانی! شمار کر
رُک جائیں تو زمین یہاں خود ہی چل پڑے
ٹھہراؤ بھی ہمارا روانی شمار کر
فیض محمد شیخ
No comments:
Post a Comment