وحشتوں سے بھر چکا ہوں مجھ پہ فتویٰ دیجئے
یہ عبادت کر گیا ہوں مجھ پہ فتویٰ دیجئے
میں حجابِ ہستئ یزدان سے ہوں آشنا
اپنی آتش میں جلا ہوں مجھ پہ فتویٰ دیجئے
دار پر چڑھ کر لہو میں بھی عبادت کر گیا
میں کہ مثلِ خوں بہا ہوں مجھ پہ فتویٰ دیجئے
وعدۂ روزِ ازل کی پاسبانی کے لیے
ایک ہی در پہ جھکا ہوں مجھ پہ فتویٰ دیجئے
آپ کے فہم و فراست اور ایماں کی طرح
جیتے جیتے مر چکا ہوں مجھ پہ فتویٰ دیجئے
حُسنِ حورِ مرمریں کی چاہ میں مر جائیے
خاک پہ میں مر مٹا ہوں مجھ پہ فتویٰ دیجئے
سب کو شکوہ اپنے لُٹنے کا رہا ابلیس سے
اور میں آدم سے لُٹا ہوں مجھ پہ فتویٰ دیجئے
مے کدہ میرا ٹھکانہ ہی رہے گا شیخ جی
دُور مسجد سے کھڑا ہوں مجھ پہ فتویٰ دیجئے
خُلد سے مجھ کو نکالا خُلد میں جاؤں گا کیوں
اپنی ہستی سے لڑا ہوں مجھ پہ فتویٰ دیجئے
مے کشی کو میں عبادت مانتا ہوں واعظا
عبد ساقی کا ہوا ہوں مجھ پہ فتویٰ دیجئے
آپ کے داغِ جبیں کا صاف کہتا ہوں کہ میں
عمر بھر مُنکر رہا ہوں مجھ پہ فتویٰ دیجئے
راہِ حق جس کو بتاتے ہیں جنابِ شیخ جی
اس سے میں اُلٹا چلا ہوں مجھ پہ فتویٰ دیجئے
میں مسافر شوق کا ہوں جل کے جوگی عشق میں
راہِ الفت پہ مَرا ہوں مجھ پہ فتویٰ دیجئے
حفیظ جوگی
No comments:
Post a Comment