کبھی جب روبرو بیٹھا کریں گے
ستارے تاک کر مارا کریں گے
گئی گزری اُمیدیں پیش کر کے
عطا کو روز شرمندہ کریں گے
یوں ہی پیدل سفر ماضی کا اکثر
کسی جنگل میں اک رستہ کریں گے
نئے امکان نفرت میں بنا کر
خدائی راز سربستہ کریں گے
مریں گے اتفاقاً حادثے میں
محبت کو مگر کوسا کریں گے
سمندر سے کریں گے بات تیری
مگر چشمے کو ہم کھارا کریں گے
مفصل بات ہر نکتے پہ ہو گی
خدا سے شام تک جھگڑا کریں گے
اُڑائیں گے کسی ٹہنی سے تتلی
وہاں پھر خون ہم تھوکا کریں گے
شاد مردانوی
No comments:
Post a Comment