بادشاہوں کو اگر چاہے گدائی دیتا ہے
عشق اگر بگڑے تو گُلشن کو تباہی دیتا ہے
کچھ روابط میں کمی لازم ہے جینے کے لیے
آئینہ بھی پاس سے دُھندلا دکھائی دیتا ہے
یہ جو اُلفت ہے حقیقت میں خدائی وصف ہے
وصف یہ مٹی کو بھی ذوقِ خدائی دیتا ہے
دھڑکنوں سے جو کیا کرتا تھا وحشت کو بیاں
میں وہی بندہ ہوں پر اونچا سنائی دیتا ہے
انتقاماً چاک داماں تھام کر جوگی تِرا
اب وفا کے شہر میں بھی بیوفائی دیتا ہے
حفیظ جوگی
No comments:
Post a Comment