جو قرض مجھ پہ ہے وہ بوجھ اتارتا جاؤں
کوئی سنے نہ سنے میں پکارتا جاؤں
مٹا چکا ہوں جسے اپنے صفحۂ دل سے
غزل غزل وہی چہرہ اُبھارتا جاؤں
نجانے میرے تعاقب میں کون کون آئے
میں اپنے نقشِ کفِ پا اُبھارتا جاؤں
جو میرے پاس ہے اپنے لیے بچا رکھوں
جو میرے پاس نہیں تجھ پہ وارتا جاؤں
قدم قدم پہ نئے لوگ سامنے آئیں
قدم قدم پہ نئے رُوپ دھارتا جاؤں
کہیں بنے نہ انا میری راہ میں دیوار
یہ طوق اپنے گلے سے اتارتا جاؤں
مقابلہ تو کروں راشد اپنے دشمن سے
یہ اور بات ہے جیتوں کہ ہارتا جاؤں
راشد مفتی
No comments:
Post a Comment