Saturday, 19 June 2021

شدت پسند؛ مجھے یقیں تھا کہ مذہبوں سے کوئی بھی رشتہ

 شدت پسند


مجھے یقیں تھا کہ مذہبوں سے

کوئی بھی رشتہ نہیں ہے ان کا

مجھے یقیں تھا کہ ان کا مذہب

ہے نفرتوں کی حدوں کے اندر

مجھے یقیں تھا وہ لا مذہب ہیں

یا ان کے مذہب کا نام ہرگز

سوائے شِدت کے کچھ نہیں ہے

مگر اے ہمدم

یقیں تمہارا جو ڈگمگایا

تو کتنے انساں جو ہموطن تھے

جو ہمسفر تھے

جو ہمنشیں تھے

وہ ٹھہرے دشمن

تلاشِ دشمن جو شرط ٹھہری

تو بھُول بیٹھے

کہ مذہبوں سے

کوئی بھی رشتہ نہیں ہے ان کا

کہ جس کو طعنہ دیا تھا تم نے

کہ اس کے مذہب کی کوکھ قاتل اُگل رہی ہے

وہ ماں کہ جس کا جوان بیٹا

تمہارے وہم و گماں کی آندھی میں گم ہوا ہے

تمہارے بدلے کی آگ جس کو نگل گئی ہے

وہ دیکھو اب تک بِلک رہی ہے

وہ منتظر ہے

کوئی تو کاندھے پہ ہاتھ رکھے

کہے کہ ہم نے بھی قاتلوں کی کہانیوں پر

یقیں کیا تھا

کہے کہ ہم نے گناہ کیا تھا

کہے کہ ماں ہم کو معاف کر دو

کہے کہ ماں ہم کو معاف کر دو


گوہر رضا

No comments:

Post a Comment