Sunday, 4 July 2021

شہر غفلت کے مکیں ویسے تو کب جاگتے ہیں

 شہرِ غفلت کے مکیں ویسے تو کب جاگتے ہیں

ایک اندیشۂ شبخوں ہے کہ سب جاگتے ہیں

شاید اب ختم ہوا چاہتا ہے عہدِ سکوت

حرفِ اعجاز کی تاثیر سے لب جاگتے ہیں

راہ گم کردۂ منزل ہیں کہ منزل کا سراغ

کچھ ستارے جو سرِ قریۂ شب جاگتے ہیں

عکس ان آنکھوں سے وہ محو ہوئے جو اب تک

خواب کی مثل پسِ چشمِ طلب جاگتے ہیں


راشد مفتی

No comments:

Post a Comment