خیرات بھی نہ دو مِرا کاسہ بھی چھین لو
گر ہو سکے فقیر سے رستہ بھی چھین لو
پہلے ہوا کو جا کے ذرا مُخبری کرو
پھر آ کے تم چراغ سے چہرہ بھی چھین لو
تنہا کرو تو یار! مکمل کرو نا پھر
مجھ سے مِرے وجود کا سایہ بھی چھین لو
رکھا تھا روزِ حشر کی خاطر بچا کے یار
میری جبیں میں ایک وہ سجدہ بھی چھین لو
پہلے تو خواب چھین کے اندھا کیا انہیں
آنکھوں سے آج نیند کا رشتہ بھی چھین لو
بچوں کی طرح خود سے میں اکثر ہوں کھیلتا
مجھ سے یہ کھیلتا ہوا بچہ بھی چھین لو
پتے خزاں کی بچی تو پہلے ہی لے گئی
بیٹھا ہے شاخ پر جو پرندہ بھی چھین لو
اس گھر نے تو فقیر کو در سے بھگا دیا
تم جا کے اس کے ہاتھ سے صدقہ بھی چھین لو
مصور عباس
No comments:
Post a Comment