Sunday, 4 July 2021

نکلنا پڑتا ہے خود کی نہیں نہیں سے مجھے

 نکلنا پڑتا ہے خود کی نہیں نہیں سے مجھے

کوئی پُکارنے لگتا ہے جب یقیں سے مجھے

ادھورا خواب ہوں تعبیر ڈھونڈنی ہے مجھے

اُڑا گیا ہے کوئی چشمِ خشمگیں سے مجھے

خبر نہیں کہ میں پھر اس کے کام آ بھی سکا

کوئی خرید کے لایا تھا مہ جبیں سے مجھے

کہیں مدار سے ہٹنے کی جستجو میں نہ ہو

سنائی دیتی ہے لا کی صدا زمیں سے مجھے

سجا تو آیا ہوں مسکان اس کے ہونٹوں پر

اتارنی ہے شکن اب کے اس جبیں سے مجھے

تمہارے ساتھ ابھی دوستی نہیں ہے، مگر

نکالنے ہیں کئی دوست آستیں سے مجھے


زاہد خان

No comments:

Post a Comment