ہوئی انہونی تیرے جانے پر
مجھے نیند آ گئی سرہانے پر
ذرا سا خواب کو لگایا منہ
اُتر آیا مجھے ستانے پر
نہیں تو فن پہ حرف آ جاتا
تبھی ہم آ گئے نشانے پر
تمہیں شکوہ ہے ہم بلاتے نہیں
چلے آؤ گے کیا بلانے پر؟
نہ بدی کی نہ نیکی اس ڈر سے
نہ رہے بوجھ کوئی شانے پر
فاطمہ نوشین
No comments:
Post a Comment