Sunday, 4 July 2021

شوق وحشت جو مر گیا ہو گا

 شوقِ وحشت جو مر گیا ہو گا

قیس، جنگل سے گھر گیا ہو گا

ہم نے چُوما تھا اتنی شدت سے

اس کا چہرہ نِکھر گیا ہو گا

اس کے لب پر تھی احتراماً چُپ

تُو سمجھتا تھا ڈر گیا ہو گا

لوگ کرتے ہیں بات مرنے کی

تیرا عاشق یہ کر گیا ہو گا

میں بھی اپنی انا میں قید رہا

وہ بھی خود سے گزر گیا ہو گا


کامران حیدر

No comments:

Post a Comment