دیکھ، منصور سمجھ کر یہ تِرے شہر کے
لوگ جانبِ دار بلاتے ہیں اشارے سے مجھے
یہ مِرا ظرف کہ میں پُھول اُٹھا لیتا ہوں
تیر و تلوار بُلاتے ہیں اشارے سے مجھے
جب کبھی آنکھ برسنے کو سہارا چاہے
در و دیوار بُلاتے ہیں اشارے سے مجھے
نام لیتے ہی تِرا شہر کے سوئے ہوئے لوگ
ہو کے بیدار بُلاتے ہیں اشارے سے مجھے
کھینچ لیتا ہے تِرا دشت مجھے اپنی طرف ورنہ
گُل زار بُلاتے ہیں اشارے سے مجھے
ازبر سفیر
No comments:
Post a Comment