Friday, 27 March 2026

ابر بے وجہ نہیں دشت کے اوپر آئے

 ابر بے وجہ نہیں دشت کے اوپر آئے

اک دعا اور کہ بارش کی دعا بر آئے

آنکھ رکھتے ہوئے کچھ بھی نہیں دیکھا ہم نے

ورنہ منزل سے حسیں راہ میں منظر آئے

کوئی امکان کہ جاگے کبھی لوہے کا ضمیر

اور قاتل کی طرف لوٹ کے خنجر آئے

آرزو تھی کہ شجر کو ثمر آور دیکھوں

بور پڑتے ہی مگر صحن میں پتھر آئے

 تجھ سے دریا تو گئے چل کے سمندر کی طرف

مجھ سے قطرے کی طرف اڑ کے سمندر آئے

آزمائش ہو شجاعت کی تو پھر ایسے ہو

میں اکیلا ہوں مرے سامنے لشکر آئے

کر دیا دھوپ نے جب شہر کو یوں سایوں کے سپرد

پھر تو دن میں بھی کئی رات کے منظر آئے


مختار جاوید

No comments:

Post a Comment