میں عرش و فرش پر محوِ خیال طور رہتا ہوں
عیاں سیرت سے ہوں، صورت سے گو مستور رہتا ہوں
حقیقت میں میرا مسکن تو مے خانہ ہے مے خانہ
نہ حاجت جام و مینا کی، نشے میں چُور رہتا ہوں
میرا سایہ نہ چھوڑے گا قیامت تک میرا پیچھا
یہ اتنا پاس آتا ہے، میں جتنا دور رہتا ہوں
میں جتنا اس کو بہلاتا ہوں، اتنا ہی مچلتا ہے
دلِ ناداں کے ہاتھوں بہت مجبور رہتا ہوں
میں تو ممنونِ احساں ہوں تیری نظرِ عنایت کا
کہ جس سے بِن پئے آٹھوں پہر مسرور رہتا ہوں
مسرور کاشمیری
No comments:
Post a Comment