Sunday, 15 March 2026

زیست جس وقت ڈستی ہوتی ہے

 زیست جس وقت ڈستی ہوتی ہے

موت اس وقت سستی ہوتی ہے

ہاتھ پکڑے کی لاج تم رکھنا

عشق میں ایک مستی ہوتی ہے

رنج و غم، درد و کرب، حسرت و یاس

نیستی میں بھی ہستی ہوتی ہے

شب کے پچھلے پہر دعا کرنا

اس کی رحمت برستی ہوتی ہے

اپنے دل کا یہ حال ہے احمر

جیسے مفلس کی بستی ہوتی ہے


نصیر احمر

No comments:

Post a Comment