زیست جس وقت ڈستی ہوتی ہے
موت اس وقت سستی ہوتی ہے
ہاتھ پکڑے کی لاج تم رکھنا
عشق میں ایک مستی ہوتی ہے
رنج و غم، درد و کرب، حسرت و یاس
نیستی میں بھی ہستی ہوتی ہے
شب کے پچھلے پہر دعا کرنا
اس کی رحمت برستی ہوتی ہے
اپنے دل کا یہ حال ہے احمر
جیسے مفلس کی بستی ہوتی ہے
نصیر احمر
No comments:
Post a Comment