کیا کہیں اور پھر ملیں گے ہم، کیا کوئی اور زندگی ہو گی
بیٹھ تو، بات کر کہ کیا معلوم کون سی چائے آخری ہو گی
اک تعلق کے ٹوٹ جانے سے شہر کا شہر ٹوٹ جائے گا
پھر یہ رت لوٹ کر نہ آئے گی، پھر ملاقات سرسری ہو گی
چشمِ پُرنم سے مت پریشاں ہو، شب کی جاگی ہوئی ہیں بیچاری
پھر تعلق کے اس مرحلے پر آنکھ کس کی نہیں بھری ہو گی
آمدِ صبحِ نو کا جشن منا، اک نہ اک دن کبھی ملے گی کہیں
حلقۂ حزن و یاس سے آگے، ایک دنیا ہری بھری ہو گی
کوئے جاناں کی ہر گلی کے اب رنگ سارے اتر گئے ہوں گے
اور وہ چنچل شرارتی لڑکی چپ سی ہو گی بھری بھری ہو گی
ندیم ظہیر
No comments:
Post a Comment