Tuesday, 31 March 2026

اب اس افسانے کا عنوان افسانے میں رکھ دینا

 جو ممکن ہو تو سوز شمع پروانے میں رکھ دینا

اب اس افسانے کا عنوان افسانے میں رکھ دینا

بڑی کافر کشش ایماں میں ہے اے عازم کعبہ

نہ لے جانا دل اپنے ساتھ بت خانے میں رکھ دینا

مِرا دل بھی شراب عشق سے لبریز ہے ساقی

یہ بوتل بھی اڑا کر کاگ میخانے میں رکھ دینا

ابھی آئینۂ تصویر ابھی ہشیار ابھی غافل

تمہیں آتا ہے ہر انداز دیوانے میں رکھ دینا

مِرا پیمانۂ ہستی اگر ساقی چھلک جائے

مِرے حصے کا خالی جام میخانے میں رکھ دینا

شریک مے جناب شیخ بھی ہو جائیں گے ساقی

ذرا ظرف وضو کا ڈھنگ پیمانے میں رکھ دینا

یہ کیا دست اجل کو کام سونپا ہے مشیت نے

چمن سے توڑنا پھول اور ویرانے میں رکھ دینا

وفور یاس میں قیصر چلے ہیں دل سے چند آنسو

یہ لاشیں ہیں انہیں آنکھوں کے خس خانے میں رکھ دینا


قیصر حیدری دہلوی

No comments:

Post a Comment