Tuesday, 31 March 2026

اتنی مشکل میں بھی احباب نہ ڈالیں مجھ کو

 اتنی مشکل میں بھی احباب نہ ڈالیں مجھ کو

کہ سنبھلنا بھی نہ چاہوں تو سنبھالیں مجھ کو

غم دوراں غم جاناں غم جاں ایک ہوئے

ڈر رہا ہوں یہ کہیں مار نہ ڈالیں مجھ کو

منفرد میری طبیعت ہے یہ حالات کہیں

روش عام کے سانچے میں نہ ڈھالیں مجھ کو

میں تو اس پر بھی ہوں راضی کہ ترے شہر کے لوگ

میرے بنتے نہیں اپنا ہی بنا لیں مجھ کو

آپ مجھ سے کسی تعبیر کی پھر بات کریں

پہلے اس خواب تمنا سے جگا لیں مجھ کو

نہیں معلوم کہ کل تک میں رہوں یا نہ رہوں

مہرباں آج ہی جی بھر کے ستا لیں مجھ کو

ان بلندی کے مکینوں کو میسر ہی نہیں

لیث وہ ہاتھ جو پستی سے اٹھا لیں مجھ کو


لیث قریشی

No comments:

Post a Comment