Tuesday, 10 March 2026

لمحوں کی تھی بات جو سالوں تک پہنچی

 لمحوں کی تھی بات جو سالوں تک پہنچی

ایک محبت کتنے حوالوں تک پہنچی

جانتا ہے یہ کون کہ کتنی مشکل سے

باغ میں تتلی پھول کے گالوں تک پہنچی

اتر گیا جب ذہن سے خوش فہمی کا خمار

سوچ نجانے کتنے سوالوں تک پہنچی

چاہت چاہت کہنے والے کئی تھے لوگ

چاہت چاہت کے متوالوں تک پہنچی

دل میں بات چھپا کے جو رکھی تم نے وقار

آج تمہارے چاہنے والوں تک پہنچی


راجہ وقار عظیم

No comments:

Post a Comment