لمحوں کی تھی بات جو سالوں تک پہنچی
ایک محبت کتنے حوالوں تک پہنچی
جانتا ہے یہ کون کہ کتنی مشکل سے
باغ میں تتلی پھول کے گالوں تک پہنچی
اتر گیا جب ذہن سے خوش فہمی کا خمار
سوچ نجانے کتنے سوالوں تک پہنچی
چاہت چاہت کہنے والے کئی تھے لوگ
چاہت چاہت کے متوالوں تک پہنچی
دل میں بات چھپا کے جو رکھی تم نے وقار
آج تمہارے چاہنے والوں تک پہنچی
راجہ وقار عظیم
No comments:
Post a Comment