اس کی آواز سنیں روپ انوکھا دیکھیں
زینۂ شام سے مہتاب اُترتا دیکھیں
سوچتی آنکھوں نے ہر روپ بدلتے دیکھا
جھیل کے پار جو منظر ہے اسے کیا دیکھیں
ویسے مدت ہوئی خوشبو کا سفر ختم ہوا
راستے بھاگ رہے ہیں کہ تماشا دیکھیں
کتنے منظر تری آنکھوں نے دکھائے ہم کو
اب یہ سوچا ہے کہ دیکھیں تو اُجالا دیکھیں
لوگ کہتے ہیں کہ ٹوٹا ہے سرابوں کاطلسم
پیاس کے شہر سے گزرے ہیں تو دریا دیکھیں
مطلع ذہن پہ ظلمت کا تسلط ہے ابھی
روشنی تیز اگر ہو تو سویرا دیکھیں
شعر کہتے ہوئے کیا سوچتے رہتے ہو وقار
انجمن دیکھ چکے فرد کو تنہا دیکھیں
وقار خلیل
No comments:
Post a Comment