Sunday, 1 March 2026

بارش رکی وباؤں کا بادل بھی چھٹ گیا

 بارش رکی وباؤں کا بادل بھی چھٹ گیا

ایسی چلیں ہوائیں کہ موسم پلٹ گیا

پتھر پہ گر کے آئینہ ٹکڑوں میں بٹ گیا

کتنا مِرے وجود کا پیکر سمٹ گیا

کٹتا نہیں ہے سرد و سیہ رات کا پہاڑ

سورج تھا سخت دھوپ تھی دن پھر بھی کٹ گیا

چھالیں شجر شجر سے اترنے کو آ گئیں

بوسیدہ پیرہن ہوا اتنا کہ پھٹ گیا

تلوار بے یقینی کے ہاتھوں میں آ گئی

اپنے مقابلے میں ہر اک شخص ڈٹ گیا

جب تک نہ چھو کے دیکھا تھا وسعت تھی آپ میں

دیکھا تو چھوئی موئی کا پودا سمٹ گیا

سایہ تھا بھاگتا تھا بہت میری دھوپ سے

وہ شخص کہ جو میرے گلے سے چمٹ گیا


یٰسین افضال 

No comments:

Post a Comment