وہ رند کیا کہ جو پیتے ہیں بے خودی کے لیے
سرور چاہئے وہ بھی کبھی کبھی کے لیے
یہ کیا کہ بزم میں شمعیں جلا کے بیٹھے ہو
کبھی ملو تو سر راہ دشمنی کے لیے
اودھ کی شام، رفیقوں کو، مہ جبینوں کو
ہر ایک چھوڑ کے آئے تھے بمبئی کے لیے
مگر یہ کیا کہ بجز درد کچھ ہمیں نہ ملا
عجیب شہر ہے یہ ایک اجنبی کے لیے
ہزار چاہیں نہ چھُوٹے گی ہم سے یہ دنیا
یہیں رہیں گے محبت کی بے کسی کے لیے
کوئی پناہ نہیں، کوئی جائے امن نہیں
حیات جہدِ مسلسل ہے آدمی کے لیے
یہ کہہ رہا ہے کوئی اپنے جاں نثاروں سے
کچھ اور چاہئے اب رسمِ عاشقی کے لیے
کہاں کہاں نہ پکارا، کہاں کہاں نہ گئے
بس اک تبسمِ پنہاں کی روشنی کے لیے
باقر مہدی
No comments:
Post a Comment