Monday, 17 May 2021

وہ رند کیا کہ جو پیتے ہیں بے خودی کے لیے

 وہ رند کیا کہ جو پیتے ہیں بے خودی کے لیے

سرور چاہئے وہ بھی کبھی کبھی کے لیے

یہ کیا کہ بزم میں شمعیں جلا کے بیٹھے ہو

کبھی ملو تو سر راہ دشمنی کے لیے

اودھ کی شام، رفیقوں کو، مہ جبینوں کو

ہر ایک چھوڑ کے آئے تھے بمبئی کے لیے

مگر یہ کیا کہ بجز درد کچھ ہمیں نہ ملا

عجیب شہر ہے یہ ایک اجنبی کے لیے

ہزار چاہیں نہ چھُوٹے گی ہم سے یہ دنیا

یہیں رہیں گے محبت کی بے کسی کے لیے

کوئی پناہ نہیں، کوئی جائے امن نہیں

حیات جہدِ مسلسل ہے آدمی کے لیے

یہ کہہ رہا ہے کوئی اپنے جاں نثاروں سے

کچھ اور چاہئے اب رسمِ عاشقی کے لیے

کہاں کہاں نہ پکارا، کہاں کہاں نہ گئے

بس اک تبسمِ پنہاں کی روشنی کے لیے


باقر مہدی

No comments:

Post a Comment