Monday, 17 May 2021

جن کی یادیں ہیں ابھی دل میں نشانی کی طرح

جن کی یادیں ہیں ابھی دل میں نشانی کی طرح 

وہ ہمیں بھول گئے ایک کہانی کی طرح

دوستو! ڈھونڈ کے ہم سا کوئی پیاسا لاؤ 

ہم تو آنسو بھی جو پیتے ہیں تو پانی کی طرح 

غم کو سینے میں چھپائے ہوئے رکھنا یارو 

غم مہکتے ہیں بہت رات کی رانی کی طرح 

تم ہمارے تھے تمہیں یاد نہیں ہے شاید 

دن گزرتے ہیں برستے ہوئے پانی کی طرح 

آج جو لوگ تِرے غم پہ ہنسے ہیں والی 

کل تجھے یاد کریں گے وہی فانی کی طرح


والی آسی

No comments:

Post a Comment