Thursday, 4 March 2021

چاہا بہت کہ عشق کی پھر ابتدا نہ ہو

 چاہا بہت کہ عشق کی پھر ابتدا نہ ہو

رسوائیوں کی اپنی کہیں انتہا نہ ہو 

جوشِ وفا کا نام جنوں رکھ دیا گیا

اے درد آج ضبطِ فغاں سے سوا نہ ہو

یہ غم نہیں کہ تیرا کرم ہم پہ کیوں نہیں

یہ تو ستم ہے تیرا کہیں سامنا نہ ہو

کہتے ہیں ایک شخص کی خاطر جیے تو کیا

اچھا یوں ہی سہی تو کوئی آسرا نہ ہو

یہ عشق حدِ غم سے گزر کر بھی راز ہے

اس کشمکش میں ہم سا کوئی مبتلا نہ ہو

اس شہر میں ہے کون ہمارا تِرے سوا

یہ کیا کہ تُو بھی اپنا کوئی ہمنوا نہ ہو


باقر مہدی

No comments:

Post a Comment