Thursday, 4 March 2021

منزل نہ کوئی راہنما گھر سے چل پڑے

 منزل نہ کوئی راہنما گھر سے چل پڑے

آوارگی کا لینے مزہ گھر سے چل پڑے

گوتم کی طرح ہم نے بھی چپ چاپ ایک رات

گھر میں کسی سے کچھ نہ کہا گھر سے چل پڑے

دیوارو در میں قید ہیں گھر بھی ہے اک قفس

احساس ہم کو جب یہ ہوا گھر سے چل پڑے

لمبے سفر سے لوٹ کے آئے تھے گھر میں ہم

پھر بھی سفر سے جی نہ بھرا گھر سے چل پڑے

ہم منتظر سے تھے، اس کو اندازہ ہو سکے

دروازہ ہم نے رکھا کھُلا گھر سے چل پڑے

سر پر بلا کی دھوپ تھی، پاؤں تلے تھی ریت

کرنا تھا ہم کو وعدہ وفا، گھر سے چل پڑے

مقتل کی سر زمیں نے ہمیں جب بھی دی‌ صدا

دیوار و در کا بوسہ لیا گھر سے چل پڑے


احمد کمال حشمی

No comments:

Post a Comment