منزل نہ کوئی راہنما گھر سے چل پڑے
آوارگی کا لینے مزہ گھر سے چل پڑے
گوتم کی طرح ہم نے بھی چپ چاپ ایک رات
گھر میں کسی سے کچھ نہ کہا گھر سے چل پڑے
دیوارو در میں قید ہیں گھر بھی ہے اک قفس
احساس ہم کو جب یہ ہوا گھر سے چل پڑے
لمبے سفر سے لوٹ کے آئے تھے گھر میں ہم
پھر بھی سفر سے جی نہ بھرا گھر سے چل پڑے
ہم منتظر سے تھے، اس کو اندازہ ہو سکے
دروازہ ہم نے رکھا کھُلا گھر سے چل پڑے
سر پر بلا کی دھوپ تھی، پاؤں تلے تھی ریت
کرنا تھا ہم کو وعدہ وفا، گھر سے چل پڑے
مقتل کی سر زمیں نے ہمیں جب بھی دی صدا
دیوار و در کا بوسہ لیا گھر سے چل پڑے
احمد کمال حشمی
No comments:
Post a Comment