Thursday, 4 March 2021

ناحق دشت میں آ کر ہم نے خود پر وحشت طاری کی

 ناحق دشت میں آ کر ہم نے خود پر وحشت طاری کی 

نہ تو رب کو راضی رکھا، نہ ہی دُنیا داری کی 

کب سے بیٹھا سوچ رہا ہوں کھڑکی کے اس پار ہے کیا

کون ہٹائے آنکھ سے پردہ، دور ہو کیسے تاریکی

وقت کا پہیہ دوڑ رہا ہے، سورج ڈوبنے والا ہے

تُو نے کتنے دیپ بنائے، رات کی کیا تیاری کی؟

اب بھی تھوڑا وقت ہے باقی، اصل کی جانب واپس آ

آخری سیٹ بچی ہے بھیا وہ بھی آخری لاری کی

راشد ہم نے دہر میں آ کر اپنا ہی نقصان کیا 

کیوں کر اپنا خون جلایا، اپنی دل آزاری کی


راشد علی مرکھیانی

No comments:

Post a Comment