Monday, 1 March 2021

دشمن جاں کوئی بنا ہی نہیں

 دشمنِ جاں کوئی بنا ہی نہیں

اتنے ہم لائقِ جفا ہی نہیں

آزما لو کہ دل کو چین آئے

یہ نہ کہنا کہیں وفا ہی نہیں

جانے کیوں ان سے ملتے رہتے ہیں

خوش وہ کیا ہوں جب خفا ہی نہیں

تم نے اک داستاں بنا ڈالی

ہم نے تو رازِ غم کہا ہی نہیں

غمگسار اس طرح سے ملتے ہیں

جیسے دنیا میں کچھ ہوا ہی نہیں

اے جنوں کون سی یہ منزل ہے

کیا کریں کچھ ہمیں پتا ہی نہیں

موت کے دن قریب آ پہنچے

ہائے ہم نے تو کچھ کیا ہی نہیں


باقر مہدی

No comments:

Post a Comment