Monday, 14 December 2020

شاید مجھ کو اس لمحے نروان ملے

 نروان


اک خوشبو درد سر کی مرجھائی کلیوں کو کھلائے جاتی ہے

ذہن میں بچھو امیدوں کے ڈنک لگاتے ہیں

ہچکی لے کر پھر خود ہی مر جاتے ہیں

دل کی دھڑکن سچائی کے تلخ دھوئیں کو گہرا کرتی پیہم بڑھتی جاتی ہے

پیٹ میں بھوک ڈکاریں لیتی رہتی ہے

پھر رگ رگ میں سوئیاں بن کر بھاگی بھاگی پھرتی ہے

پورے جسم میں درد کا اک لاوا سا بہتا رہتا ہے

ایسا مجھ کو لگتا ہے

جیسے میں

آخری قے میں اس دنیا کی ساری غذائیں خواب و حقیقت کی آلائش

آدرشوں کی میٹھی شرابیں

اک بے معنی کشش میں الجھا

یہ جیون

سارا کا سارا اگل دوں گا

شاید مجھ کو اس لمحے نروان ملے


باقر مہدی

No comments:

Post a Comment