Monday, 14 December 2020

ایسا نہیں کہ کھلا در ہی نہیں رہا

 ایسا نہیں کہ کھلا در ہی نہیں رہا

وہ مجھ کو بلا کر گھر ہی نہیں رہا

حسنِ کائنات بھی کم پڑ گیا ہے

پیمانۂ دل میرا بھر ہی نہیں رہا

کوئی تیار نہیں ہے معتبر بننے کو

دستار تو ہے پر سر ہی نہیں رہا

زندگی کی سنگ دلی دیکھ کر

مجھے موت کا ڈر ہی نہیں رہا

کس مان پہ صدا کروں مرشد

مری آہوں میں اثر ہی نہیں رہا

اب ظہور ہونے کا کیا فائدہ وسیم

جب کوئی ترا منتظر ہی نہیں رہا


وسیم ارشد

No comments:

Post a Comment