ایسا نہیں کہ کھلا در ہی نہیں رہا
وہ مجھ کو بلا کر گھر ہی نہیں رہا
حسنِ کائنات بھی کم پڑ گیا ہے
پیمانۂ دل میرا بھر ہی نہیں رہا
کوئی تیار نہیں ہے معتبر بننے کو
دستار تو ہے پر سر ہی نہیں رہا
زندگی کی سنگ دلی دیکھ کر
مجھے موت کا ڈر ہی نہیں رہا
کس مان پہ صدا کروں مرشد
مری آہوں میں اثر ہی نہیں رہا
اب ظہور ہونے کا کیا فائدہ وسیم
جب کوئی ترا منتظر ہی نہیں رہا
وسیم ارشد
No comments:
Post a Comment