طویل رات
رات جس کا لمحہ لمحہ دل و دماغ میں
کانچ کی کرچیوں کی مانند چبھ رہا ہے
یہ نرم و ملائم بستر نہیں، اذیت بچھی ہے
جس کی نوک کمر میں سوراخ گڑھ رہی ہے
ایک خواب ٹوٹ گیا ہے
نہیں ایک نہیں، بہت سے خواب
یہ خوابوں کا بے انت سلسلہ
جن کی چنگاریاں آنکھوں کے آتشدان میں بھڑک اٹھی ہیں
کانوں میں سرگوشی کرتی ہوئی آواز
میں جلد لوٹوں گا" کی چاپ بھی مدھم پڑنے لگی ہے"
ہاتھ درد سے کُرلاتے ہیں
ٹکڑے چُنتے ہوئے شاید کوئی خواب لگ گیا ہے
دامن میں جمع شدہ خواب ایک بار پھر بکھرے پڑے ہیں
میرے پاؤں شل
اور ہاتھ ساکت ہیں
انہیں دوبارہ اٹھانے کی سکت نہیں مجھ میں
رات کے آخری دو گھنٹے جیسے صدیوں پہ محیط ہو گئے ہیں
صبحِ نوخیز کی کوئی کرن دکھائی نہیں دے رہی
کاش وقت آگے بڑھ جائے
صرف آج کے لیے
پہلی اور آخری بار
کہ اب سانسیں گھٹنے لگی ہیں
امید دم توڑتی جا رہی ہے
طوبیٰ منہاس
No comments:
Post a Comment