سفر میں رنجِ مسافت کے سب کنائے گئے
ہم ایک دھوپ کے ہمراہ سائے سائے گئے
سماج جھوٹ ہے اقدار سے رنگا ہوا جھوٹ
حیات وہم ہے جس پر یقین ڈھائے گئے
ہم ایسے امن پرستوں کی سادہ لوحی کو
فریب نامے دکھائے گئے، سنائے گئے
وہ دیکھتے ہوئے تاریکیوں میں گھل کے رہے
وہ بولتے ہوئے عبرت نشاں بنائے گئے
شکستِ خوابِ سماوات جرم جانی گئی
ہم ایک چیخ کے مجرم تھے، آزمائے گئے
سکوتِ جبر کے عفریت کی رضا کے لیے
سوال کرتے ہوئے آدمی اٹھائے گئے
خمار میرزادہ
No comments:
Post a Comment