Monday, 14 December 2020

زندگی کے تلاطم سے ہم وقت کی سیپیاں چنتے

 انجماد


بخت ور

زندگی کے تلاطم سے ہم وقت کی

سیپیاں چنتے چنتے یہاں آ گئے ہیں

جہاں ساحلی برف زاروں میں خواہش کے بے حس پرندوں کی ڈاریں

خود اپنے پر و بال چگنے لگی ہیں


یہاں خامشی ہے

زمانوں کے اعصاب کو توڑتی خامشی ہے

یہاں بے دلی ہے

رگوں کے ٹھٹھرتے ہوئے راستوں میں

کوئی منجمد بے دلی ہے

یہاں معنویت کی صبحوں کے رخ پر

کسی شامِ بے نام کی گردِ لایعنیت جم رہی ہے

فضاؤں میں یخ بستگی کا دھواں ہے

کراں تا کراں موجزن خاکِ احساسِ بے خانماں

بخت ور

تیری حدت کی حد بندیوں سے ادھر

قاعدے کلیت کی زباں کاٹتے ہیں

سبھی راستے دھند سے اٹ چکے ہیں

فقط زمہریری دریچے کھلے ہیں

جہاں تک چراغوں کی سانسیں دھنی جا رہی ہیں

یہاں خامشی ہے

رگیں کاٹتی خامشی ہے

ہمیں وقت کی سیپیوں کی سلگتی ہوئی کوکھ سے کچھ نہیں مل سکا ہے

سو ہم اپنی مرضی کیے جا رہے ہیں

جیے جا رہے ہیں

ہمیں اب کوئی زندگی کی طرف لانے والا نہیں


خمار میرزادہ

No comments:

Post a Comment