Monday, 14 December 2020

عجب یہ حالت بے چارگی ہے

عجب یہ حالتِ بے چارگی ہے

جہاں تک دیکھتا ہوں تیرگی ہے

مری باتوں میں بھی ہے اک اداسی

ترے لہجے میں بھی افسردگی ہے

لبوں پر ہے ابھی انکار لیکن

تری آنکھوں میں اک آمادگی ہے

جو حصہ ہی نہیں ہے زندگی کا

وہی اک شخص میری زندگی ہے

اداسی ناچتی ہے اس کی دُھن پر

خموشی میں یہ کیسی نغمگی ہے

ذکی سب راستے ویراں پڑے ہیں

فقط میں ہوں، مری آوارگی ہے


ذوالفقار ذکی

No comments:

Post a Comment