Monday, 14 December 2020

ہم نے پھول بھیجنے کے موسم میں

 ہم نے پھول بھیجنے کے موسم میں

ایک دوسرے کو ہجر بھیجا

تم میرے ہونٹوں سے

کسی ان چاہے اظہار کے طرح بچھڑ گئے

اور میں تمہاری آنکھوں سے

آنسوؤں کی طرح بے دخل ہو گئی

کسی میز پر آج بھی دو موم بتیاں

بڑی شدت سے جل رہی ہوں گی

مگر ہم روشنی کا مقدمہ ہار گئے تھے

دیکھو ہمارے اندر

کتنی تاریکیاں بھری ہوئی ہیں

کیا تمہیں کوئی راستہ سجھائی دیتا ہے؟

نہیں

میں بھول چکی ہوں دروازہ کس طرف تھا


سدرہ سحر عمران

No comments:

Post a Comment