تمہیں مکمل نہیں کروں گا
تم آسماں سے اداس لمحوں میں میرے دل پر اتر رہی تھیں
میں ایک پل کو کہیں زمانوں کے پیچ و خم میں الجھ گیا تھا
اس ایک لمحے کی وسعتوں میں رکی ہوئی ہو
تم اپنی حیرت کے سارے رنگوں سمیت میری ادھوری نظموں میں
سانس لیتی ہو، جاگتی ہو
عجیب آنکھوں سے دیکھتی ہو
مری محبت کی نظم ہو تم
تمہیں مکمل نہیں کروں گا
جو شب تمہاری گرہ میں الجھی ہوئی کھڑی تھی
کھڑی ہوئی ہے
سمے کے ماتھے پہ جو شکن تھی
ابھی تلک وہ پڑی ہوئی ہے
جو یہ دریچہ سا اک کھلا تھا
ہوا کی جانب
کھلا رہے گا
جو زخم سانسوں کو بھر رہا ہے
نہیں بھروں گا
تمہیں مکمل نہیں کروں گا
اشرف یوسفی
No comments:
Post a Comment