جہانِ دل کے مقدر میں، یہ لکھا ہی نہیں
اجڑ گیا ہے جب اک بار، پھر بسا ہی نہیں
وہ یوں گیا کہ بجھے آس کے سبھی دیپک
چراغ دل میں مرے پھر کوئی جلا ہی نہیں
نہیں تھا جس کے مقدر میں آپ کا دامن
وہ اشک گوہرِ نایاب میں ڈھلا ہی نہیں
کسی کے لوٹ کے آنے کی آس کیا ٹوٹی
پھر اس کے بعد دِیا طاق پر دھرا ہی نہیں
قبول ہوتی نہیں، کیوں دعائیں اب اپنی؟
تو کیا سمجھ لیں، ہمارا کوئی خدا ہی نہیں
یہ زندگی بھی، عجب رہگزار ہے نسریں
بچھڑ گیا جو یہاں، پھر کبھی ملا ہی نہیں
نسرین سید
No comments:
Post a Comment