Monday, 14 December 2020

کبھی دیکھو مری روتی ہوئی آنکھیں

 کبھی دیکھو مری روتی ہوئی آنکھیں

تری یادوں میں ہی رہتی ہوئی آنکھيں

کریں تیرا ہی ہر پل تذکرہ مجھ سے

کبھی جاگی کبھی سوتی ہوئی آنکھيں

کسی صحرا کی حالت پر کریں ماتم

سمندر کی طرح بہتی ہوئی آنکھیں

مجھے پھر سے ستائیں گی یہ لگتا ہے

تری باتوں میں ہیں آتی ہوئی آنکھیں

تری تصویر کے گلشن میں ہر لمحہ

کبھی آتی کبھی جاتی ہوئی آنکھیں

خدا کا واسطہ ہے بھول جا اس کو

کہیں الوینہ سے روتی ہوئی آنکھیں


الوینہ چیمہ

No comments:

Post a Comment