کبھی دیکھو مری روتی ہوئی آنکھیں
تری یادوں میں ہی رہتی ہوئی آنکھيں
کریں تیرا ہی ہر پل تذکرہ مجھ سے
کبھی جاگی کبھی سوتی ہوئی آنکھيں
کسی صحرا کی حالت پر کریں ماتم
سمندر کی طرح بہتی ہوئی آنکھیں
مجھے پھر سے ستائیں گی یہ لگتا ہے
تری باتوں میں ہیں آتی ہوئی آنکھیں
تری تصویر کے گلشن میں ہر لمحہ
کبھی آتی کبھی جاتی ہوئی آنکھیں
خدا کا واسطہ ہے بھول جا اس کو
کہیں الوینہ سے روتی ہوئی آنکھیں
الوینہ چیمہ
No comments:
Post a Comment